فرانس میں ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں رکن ممالک نے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے اور توانائی کے متبادل ذرائع کو تیزی سے فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق جی سیون رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے خطے میں استحکام اور سفارتی پیش رفت کی حمایت کی۔ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں پر بغیر کسی پابندی یا اضافی محصولات کے آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
رہنماؤں نے اپنے مشترکہ مؤقف میں واضح کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مستقبل کے مذاکرات میں علاقائی سلامتی اور خطرات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
اعلامیے میں لبنان میں فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ عالمی توانائی سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے متبادل ذرائع کی ترقی پر بھی زور دیا گیا۔
جی سیون ممالک نے یوکرین کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے روس کی جنگی معیشت پر مزید دباؤ بڑھانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔









