Light
Dark

میر رضا کیس: 78 افراد کے بیانات ریکارڈ، قتل کا سراغ نہیں ملا، کراچی پولیس چیف

کراچی پولیس چیف آزاد خان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا ہے کہ میر رضا کیس میں اب تک 78 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، تاہم کسی سے بھی قتل کا سراغ نہیں ملا۔

اجلاس میں انہوں نے بتایا کہ میر رضا کی موت 28 جولائی کو ہوئی، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹس میں گولی لگنے کی سمت سے متعلق مختلف تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پولیس کے مطابق میر رضا کے کپڑوں پر ہائیڈروکلورک ایسڈ کے نشانات اور چہرے پر تشدد کے آثار بھی ملے ہیں، جبکہ دونوں ہاتھوں پر پستول کے نشانات کی موجودگی کی بھی اطلاع دی گئی۔ کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ میر رضا گھر سے پستول لے کر نکلے، بعد ازاں آن لائن بائیک بک کی اور اپنی گاڑی، بٹوا، گھڑی اور چابی گھر چھوڑ گئے۔ ان کے مطابق میر رضا کے والدین واقعے کو قتل قرار دے رہے ہیں، اسی لیے پولیس قتل کے زاویے سے تفتیش کررہی ہے۔ کمیٹی کی چیئرپرسن نے میر رضا کیس کی تفتیشی ٹیم کو 24 ستمبر کو کراچی میں ہونے والے اجلاس میں بریفنگ دینے کی ہدایت کردی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *