Light
Dark

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ہنگامی صورتحال، خلانوردوں کی ایمرجنسی کیپسول میں پناہ

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر ہوا کے اخراج کی صورتحال اچانک سنگین ہونے کے بعد پانچ خلانوردوں کو تقریباً دو گھنٹے تک ہنگامی کیپسول میں پناہ لینا پڑی، تاہم بعد ازاں امریکی خلائی ادارے ناسا نے خطرے کا الرٹ واپس لے لیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب روس نے خلائی اسٹیشن کے اپنے حصے میں موجود ایک دراڑ کی مرمت کی کوشش کی، جس پر ناسا نے پہلے ہی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ناسا کی ترجمان بیتھنی اسٹیونز کے مطابق ہوسٹن میں قائم مشن کنٹرول نے جمعے کی صبح اسٹیشن پر موجود خلانوردوں کو احتیاطی تدابیر کے تحت فوری طور پر خلائی اسٹیشن کے ساتھ منسلک ‘اسپیس ایکس کرو ڈریگن’ کیپسول میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی۔

تقریباً دو گھنٹے بعد ہوا کے اخراج کی شرح کا دوبارہ جائزہ لیا گیا، جبکہ روسی حکام نے دراڑ کی مرمت کا عمل عارضی طور پر روک دیا۔ اس کے بعد ناسا نے اپنا حکم واپس لیتے ہوئے خلانوردوں کو دوبارہ خلائی اسٹیشن میں معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت دے دی۔

روسی خلائی ادارے کے مطابق ماہرین نے اسٹیشن پر دو مقامات سے ہوا کے اخراج کا سراغ لگایا، جن میں سے ایک کو فوری طور پر بند کر دیا گیا جبکہ دوسرے مقام پر مرمتی کام جاری ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس وقت عملے یا خلائی اسٹیشن کے نظام کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر دو مختلف مشنز کے تحت سات خلانورد موجود ہیں، جو اپنے سائنسی اور تحقیقی فرائض انجام دے رہے ہیں۔