اسلام آباد : وزیراعظم شہبازشریف نے روشن معیشت بجلی پیکج کا اعلان کردیا ، جس کے بعد 3 سال تک رعایتی اضافی بجلی ملے گی۔
یہ پیکیج صنعتوں اور کسانوں کو آئندہ تین سال (اکتوبر 2028 تک) رعایتی نرخوں پر اضافی بجلی فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے یہ اعلان صنعتی و زرعی شعبے کے ماہرین اور کاروباری وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ پیکیج کے تحت صنعتی شعبے کو فی الوقت 34 روپے فی یونٹ میں ملنے والی اضافی بجلی کی قیمت میں نمایاں کمی کی جائے گی، جبکہ زرعی شعبے کو 38 روپے فی یونٹ پر ملنے والی بجلی بھی کم نرخوں پر دستیاب ہوگی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئندہ تین برسوں کے دوران صنعتی اور زرعی شعبے کو اضافی بجلی 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ کے رعایتی نرخ پر فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیکیج کے تحت فراہم کی جانے والی بجلی کا بوجھ نہ تو گھریلو صارفین پر ڈالا جائے گا، نہ کسی دوسرے شعبے پر۔
وزیراعظم نے وزیر توانائی اویس لغاری اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پیکیج ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کی ترقی اور روزگار میں اضافے کے لیے صنعت و زراعت کی بحالی ناگزیر ہے، جبکہ حکومت کاروبار دوست ماحول اور سہولیات میں بہتری کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ برس کے پیکیج کے تحت صنعتی اور زرعی شعبوں نے 410 گیگاواٹ اضافی بجلی استعمال کی، جس کے نتیجے میں صنعتوں کا پہیہ چلا، برآمدات میں اضافہ ہوا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاشی بحران سے استحکام تک کا سفر مشکل ضرور تھا لیکن معاشی ٹیم کی محنت اور کاروباری طبقے کے تعاون سے ممکن ہوا۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ صنعت و زراعت کے فروغ سے ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نجات اور معاشی خودمختاری کا ہدف حاصل ہوگا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ کے فضل اور بہتر پالیسیوں کی بدولت معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، تاہم ہم سب کو ابھی مزید محنت کرنی ہے تاکہ پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔









