امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دینے والی جج کو موت کی دھمکیاں ملنے کے بعد گھر میں پراسرار طور پر آگ لگ گئی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دینے والی جج 69 سالہ ڈیان گڈسٹین کے جنوبی کیرولائنا میں ایڈسٹو بیچ پر واقع گھر میں پراسرار طور پر گھر می آگ لگ گئی۔
رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے وقت گھر میں ان کے شوہر سابق سینیٹر آرنلڈ گڈسٹین اور ان کا بیٹا موجود تھے جو جھلس کر زخمی ہو گئے۔ جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
مذکورہ جج نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں کئی بار قتل کرنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کے محکمہ انصاف نے جنوبی کیرولائنا کے عہدیداروں سے درخواست کی تھی کہ وہ 3.3 ملین سے زیادہ رائے دہندگان کے ذاتی اعداد و شمار کو تبدیل کریں۔ جن میں نام ، پتے ، پیدائش کی تاریخیں ، ڈرائیور کے لائسنس نمبر اور ان کے سوشل سیکیورٹی نمبروں کے آخری چار ہندسے شامل ہیں۔
انتظامیہ اس کے بعد اعداد و شمار کا موازنہ ایک مختلف ڈیٹا بیس سے کرے گی، جس کو محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے برقرار رکھا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس فہرست میں کتنے رجسٹرڈ ووٹرز امیگریشن ایجنٹوں کے ذریعہ درج نان سیٹیزینز کے ساتھ ملتے ہیں۔
جنوبی کیرولائنا کے ایک ووٹر این کروک نے جنوبی کیرولائنا الیکشن کمیشن کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا تھا، جس کی سماعت کرتے ہوئے جج ڈیان گڈسٹین نے گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن کو ووٹر فائلیں محکمہ انصاف کو جاری کرنے سے روک دیا تھا۔
ان کے اس فیصلے پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل برائے شہری حقوق ہرمیت ڈھلون نے تنقید بھی کی تھی۔ بعد ازاں گڈسٹین کے فیصلے کو ریاستی سپریم کورٹ نے تبدیل کر دیا تھا۔
ذرائع نے کہا ہے کہ سرکٹ کورٹ کے جج کو ریاست کو ووٹروں کے رجسٹریشن کے حساس دستاویزات کو وفاقی حکومت کے حوالے کرنے سے روکنے کے ان کے متنازعہ فیصلے کے بعد گذشتہ چند ہفتوں کے دوران موت کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں









