Light
Dark

موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی تباہی روکنے کیلیے بڑی پیش رفت

سندھ کلائمیٹٹ چینج ایکٹ 2025 کے تحت صوبے میں پہلی کلائمیٹ چینج اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے اور اس حوالے سے نجم مرزا نے بل سندھ اسمبلی میں سیکریٹری کو جمع کرا دیا ہے۔
رکن اسمبلی نجم مرزا نے بل میں تجویز پیش کی ہے کہ ہر 5 سال میں کلائمیٹ ایکشن پلان اور کاربن بجٹ لازم قرار دیا جائے اور بغیر کلائمیٹ رسک اسکریننگ کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ منظور نہ کیا جائے۔
بل میں ہیٹ ویو، سیلاب اور قحط متاثرین کو قانونی تحفظ دینے، گرین پروکیورمنٹ رولز اور ریونیو بل انرجی پر مراعات دینے، منگروز اور ساحلی علاقوں کو کلائمیٹ پروٹیکٹڈ زونز قرار دینے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ کلائمیٹ جسٹس ٹریبونل کو بحالی اور جرمانے کے اختیارات دینے، صوبے میں کلائمیٹ ڈیٹا ہب اور جدید ارلی وارننگ سسٹم کے نفاذ اور بجٹ میں کلائمیٹ ٹیگنگ اور نئے ترقیاتی اصول شامل کرنے کی تجاویز کو بھی بل کا حصہ بنایا گیا ہے۔
بل کے محرک نجم مرزا نے مذکورہ بل کو پرائیوٹ ممبر ڈے پر ایجنڈے کا حصہ بنانے کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔ تاہم اس کے زیادہ اثرات ترقی پذیر ممالک میں دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان بھی کلائمیٹ چینج کے باعث غیر معمولی بارشوں، کلاؤڈ برسٹ، گلیشیائی برسٹ کی زد میں آچکا ہے۔
صرف رواں سال طوفانی بارشوں اور سیلاب سے 900 سے زائد افراد جاں بحق جب کہ اس سے زائد زخمی اور لاپتہ ہیں۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں، ہزاروں مکانات تباہ اور سرکاری انفرا اسٹرکچر برباد ہو چکا ہے۔
وزیراعظم نے بھی مذکورہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے گزشتہ دنوں ملک بھر میں ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا