Light
Dark

جامع مسجد کے امام کا سامان مسجد سے باہر پھینک دیا گیا

بھارت میں آگرہ کی جامع مسجد کے امام کا سامان مسجد سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔ امام کے بیٹے نے ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرادیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق امام کے بیٹے نے شاہی جامع مسجد انتظامیہ کمیٹی کے چیئرمین زاہد قریشی سمیت چار افراد کے خلاف کیس رجسٹرڈ کرادیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ آگرہ کی شاہی جامع مسجد انتظامیہ کمیٹی کے چیئرمین محمد زاہد قریشی، شباب، امان اور ایک وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، پولیس اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے، جس کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمہ شاہی جامع مسجد کے امام عرفان اللہ خان نظامی اور شاہی جامع مسجد انتظامیہ کمیٹی کے چیئرمین زاہد قریشی کے درمیان ہے۔ دو ماہ قبل شاہی جامع مسجد انتظامیہ کمیٹی کے چیئرمین زاہد قریشی نے امام عرفان اللہ خان نظامی کو ہٹا کر ان کی جگہ نیا امام مقرر کیا تھا۔
امام عرفان اللہ خان کے بیٹے احمد رضا خان نظامی نے الزام لگایا کہ ان کے والد کا سامان مسجد کے احاطے میں امام کے کمرے میں رکھا گیا تھا۔ مسجد میں ان کے والد کی رہائش گاہ (حجرہ) پر ناجائز قبضہ کیا گیا۔ یہ قبضہ جمعرات کی سہ پہر شاہی جامع مسجد کے چیئرمین زاہد قریشی کے کہنے پر کیا گیا۔
مسجد کے امام عرفان اللہ خان کے بیٹے کا کہنا ہے کہ شباب، امان اور وکیل نے ان کے والد کا سامان باہر پھینک دیا۔ ملزم نے یہ سب ان کے والد کی غیر موجودگی میں کیا۔ جب انہیں اس بات کا علم ہوا تو احتجاج کرنے پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی۔

متاثرہ احمد رضا خان نظامی نے الزام عائد کیا ہے کہ بار بار مقدمہ دائر کرنے کے باوجود چیئرمین کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی۔ اس کی وجہ سیاسی سرپرستی ہے جس کی وجہ سے پولیس قانونی کارروائی نہیں کر پا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان نے میرے والد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی ہیں جس سے ہم خوف میں مبتلا ہیں۔