کراچی: یلو لائن بی آر ٹی منصوبے میں مبینہ ساڑھے 8 ارب روپے کرپشن کیس میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر اینٹی کرپشن حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی، جہاں ملزم کو پیش کیا گیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزم کو مزید تفتیش کے لیے اینٹی کرپشن کے حوالے کیا اور یکم جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ آیا ملزم کا بیان ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے یا نہیں، جس پر بتایا گیا کہ ابھی بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ محرم الحرام کی تعطیلات کے باعث مطلوبہ تفصیلات حاصل نہیں ہو سکیں، اسی لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔
سماعت کے دوران ضمیر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کے اہلخانہ کے بینک اکاؤنٹس اور دیگر تفصیلات کیوں طلب کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا موبائل فون اور دیگر اشیا پہلے ہی تفتیشی حکام کے پاس موجود ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا کنسلٹنٹ ایک وفاقی وزیر کے قریبی شخص سے تعلق رکھتا ہے۔ ملزم نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ کوئی رقم لے کر فرار ہو گئے ہیں، اور اگر تفتیش مکمل نہ ہوئی تو کیا انہیں مسلسل حراست میں رکھا جائے گا۔
ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹھیکیداروں کے ساتھ معاہدے دوبارہ کیے گئے تھے اور شرائط وہی تھیں۔ عدالت نے ملزم سے پوچھا کہ کیا ان پر کسی قسم کے تشدد کا الزام ہے، جس پر ضمیر عباسی نے انکار کیا۔
عدالت نے سماعت کے اختتام پر ضمنی چالان کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے ملزم کو اینٹی کرپشن کے حوالے کیا اور تفتیشی افسر سے پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔









