واشنگٹن: امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے ریکارڈ 75 ارب ڈالر مالیت کے ابتدائی حصص کے اجراء (آئی پی او) کے بعد دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی مجموعی دولت 1.1 کھرب ڈالرز سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے بعد وہ دنیا کی پہلی کھرب پتی شخصیت بن گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپیس ایکس کے حصص کی فروخت سے قبل ایلون مسک کی دولت تقریباً 780 ارب ڈالرز تھی، تاہم کمپنی میں ان کے حصص کی قدر میں نمایاں اضافے کے نتیجے میں ان کے اثاثوں کی مجموعی مالیت ایک کھرب ڈالر کی تاریخی حد عبور کر گئی۔
54 سالہ ایلون مسک برقی گاڑیوں، خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا سمیت متعدد شعبوں سے وابستہ معروف کاروباری شخصیت ہیں۔ وہ کئی جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بانی یا شریک بانی بھی ہیں۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق سرمایہ کار ایلون مسک کی کاروباری بصیرت اور مستقبل کے منصوبوں پر غیر معمولی اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، جسے کاروباری حلقوں میں “ایلون پریمیئم” کا نام دیا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس کی بلند قدر صرف روایتی مالیاتی پیمانوں ہی نہیں بلکہ ایلون مسک کی شخصیت، وژن اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بھی عکاس ہے۔
اگرچہ ایلون مسک کو سیاسی سرگرمیوں، متنازع بیانات اور کاروباری انداز پر تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے، تاہم ان کے حامی انہیں جدید دور کا ایک غیر معمولی موجد اور صنعت کار قرار دیتے ہیں، جنہوں نے گاڑیوں، خلائی تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔









