Light
Dark

ایران کے ساتھ مضبوط معاہدے کے بہت قریب ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک مضبوط اور مؤثر معاہدے تک پہنچنے کے امکانات روشن ہیں اور دونوں ممالک ممکنہ پیش رفت کے قریب ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران پر اقتصادی دباؤ، خصوصاً بندرگاہوں کی ناکہ بندی، نے تہران پر فوجی کارروائی کے مقابلے میں زیادہ اثر ڈالا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق امریکا کے پاس ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی صلاحیت موجود ہے، تاہم وہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی حل جنگ کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے اور ان کی ترجیح ایسا معاہدہ ہے جو خطے میں پائیدار استحکام کا باعث بنے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں اور ابتدائی امریکی اقدامات نے ایرانی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے نتیجے میں تہران مذاکرات پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی کی صورت میں آبنائے ہرمز کی بندش عالمی توانائی کی ترسیل اور معیشت کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے کے حوالے سے بھی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فریقین مذاکرات کے اہم اور آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور آئندہ دو سے تین روز کے دوران اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔