دنیا کو اس وقت ماحولیاتی آلودگی کا سامنا ہے اور اس کے مضر اثرات بڑی آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ غیر معمولی بارشیں، طوفان، سیلاب، کلاؤڈ برسٹ، لینڈ سلائیڈنگ جیسی آفات انسانوں کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
ماحول کو آلودہ کرنے میں کئی عوامل ہیں۔ ان میں ایک پلاسٹک ہے، جو سینکڑوں سال تک تلف نہیں ہوتی۔ اب ایک اسکول نے پلاسٹک کی آلودگی کے خاتمے کے لیے پلاسٹک کے بدلے طلبہ وطالبات کو مفت کتابیں اور اسٹیشنری دینے کی پیشکش کی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ پیشکش مدھیہ پردیش کے ایک کچی آبادی ‘تربیت ورلڈ اردو اینڈ ملٹی لینگویج اسکول’ کی گئی ہے۔ اسکول کی جانب سے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف مہم “تم کتاب رکھو، ہم کچرا سنبھالیں گے” کے نام سے شروع کی گئی ہے اور لوگوں کو پلاسٹک کے فضلے کا تبادلہ کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
اس اقدام کا مقصد پلاسٹک کی خالی بوتلوں اور ناشتے کے خالی پیکٹوں کے بدلے طلبہ کو قلم، کتابیں، کاپیاں اور اسٹیشنری مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
اسکول کی پرنسپل عائشہ لودھی کا کہنا ہے کہ اسکول ایک “ری سائیکل گیان کیندر” بھی چلاتا ہے تاکہ طلباء کو ری سائیکلنگ اور ردی سے اشیاء بنانے کی تعلیم دی جا سکے۔ صفائی کے ساتھ ساتھ، اسکول ردی کو ضروری اشیا میں استعمال کرنے کے بارے میں سیکھایا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی بچہ ڈسپوزایبل پانی کی بوتلیں اور 5 کلو تک کے چپس کے خالی پیکٹ اسکول لاتا ہے تو اس کے بدلے میں اسے اسکول کا ضروری سامان مفت دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کو ردی سے مختلف چیزیں بنانے کی تربیت دی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ پوری دنیا پلاسٹک کی آلودگی سے شدید متاثر ہے۔ پلاسٹک کا زیادہ تر فضلہ بائیو ڈیگریڈیبل نہیں ہے اور یہ ماحول کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ لاکھوں ٹن پلاسٹک کا فضلہ سمندر، دریاؤں، جھیلوں اور دیگر آبی ذخائر میں جانے کی وجہ سے ماحولیاتی نظام کو خطرناک حد تک نقصان پہنچ رہا ہے









