وزیر مملکت طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی دھرنے ناقابل برداشت ہیں، جتھوں سے بلیک میلنگ اب برداشت نہیں کی جائے گی۔
رہنما نیوز کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ریاست کا فیصلہ ہے جتھوں سے بلیک میل نہیں ہونا بلکہ آگے بڑھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں ٹی ایل پی نے دو بار احتجاج کی کوشش کی، پہلی بار میں ان کے مارچ کی ٹائمنگ پاک بھارت جنگ کی تھی دوسری بار انہوں نے سیلاب، پاک افغان جنگ کے دوران مارچ نکالا تھا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ مظاہرین کے مطالبات تھے کہ قتل، سنگین جرائم میں گرفتار ان کے لوگ رہا کیے جائیں، ان کی جانب سے ان ڈائریکٹ ڈیمانڈز میں فلسطین کا ذکر نہیں تھا، جرم کرنے اور کروانے والوں کو سب بھگتنا پڑے گا۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ افغانستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو انہوں نے اپنا دھرنا ختم نہیں کیا۔
واضح رہے کہ ریاست مخالف پُرتشدد سرگرمیوں میں ملوث مذہبی جماعت کیخلاف کارروائی کی جارہی ہے، ایف آئی اے مذہبی جماعت کے مالیاتی معاملات کی چھان بین کی جارہی ہے، مذہبی جماعت کے اہم عہدیداروں اور کارکنوں کے اکاؤنٹس اور اثاثوں کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
ایف آئی اے نے پُرتشدد احتجاج کیلئے فنڈنگ میں استعمال متعدد اکاؤنٹس منجمد کردیے ہیں، فنڈنگ اور مالی معاونت میں ملوث اہم افراد کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
ترجمان نے اس سلسلے میں بتایا کہ غیرقانونی مالی سرگرمیوں میں ملوث عناصرکیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کیا جارہا ہے









