اسلام آباد : سابق چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا، انھوں نے 16 ارب روپے غیر مجاز طور پر بینکوں اور مختلف کمپنیوں کو جاری کیے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل نے سابق چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ شبرزیدی نے بطور چیئرمین ایف بی آر 16 ارب روپے غیر مجاز طور پر بینکوں اور مختلف کمپنیوں کو جاری کیے، جن کمپنیوں کو رقم ریلیز کی گئی وہ شبرزیدی کی ذاتی کلائنٹس تھیں۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سابق چیئرمین ایف بی آر نے دیگر افسران کے ساتھ سرکاری عہدے کا غلط استعمال کیا اور غیرمجاز طریقے سے کمپنیوں کو ریفنڈز جاری کیے۔
ایف آئی آر میں ایچ بی ایل کو فنڈ ز ریلیز کرنے کا بار بار ذکر ہے جبکہ یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کو 2019 سے 2020 کے دوران غیر مجاز ریفنڈز دیے گئے، اس وقت حبیب بینک کے صدر اور سی ای او موجودہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب تھے۔
ذرائع کے مطابق شبرزیدی 10 مئی 2019 سے 6 جنوری 2020 تک چیئرمین ایف بی آر کے عہدے پر فائز رہے تاہم ایف آئی اے نے تحقیقات کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دی ہے، جس کی سربراہی اسسٹنٹ ڈائریکٹر نند لال کریں گے۔









