نرل احمد شریف چوہدری نے اسلام آباد میں ہر پجوم نیوز کانفرنس میں عمران خان کو پاکستان کے اندر اور باہر سے پیچیدہ حملے کر رہے دشمن گروہ کے سرغنہ کی حیثیت سے شناخت کیا اور اس کو نرم الفاظ میں ذہنی مریض قرار دیا۔ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا، پاکستان سے بڑھ کرکچھ نہیں، ایک شخص کی خواہشات اس حد تک بڑھ چکی ہیں وہ کہتا ہے میں نہیں تو کچھ نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کا ایک لائٹر نوٹ سے آغاز کیا اور کہا، ” چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی پر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، چیف آف ڈیفنس فورسز کے ہیڈ کوارٹر کا آغاز ہو چکا ہے، چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹر کی بہت عرصے سے ضرورت تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے اتنے ایشوز ہیں ان پر بات کیوں نہیں کرتے؟ان کے پاس ایک صوبے کی حکومت ہے اس کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرٹیکل 19 کے تحت آزادی اظہار رائے کی اجازت ہے مگر اس کی بھی کچھ قدغنیں ہیں، آرٹیکل 19 آپ کو ملک، ریاست اور قومی سلامتی کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اصل بیانیہ اس ذہنی مریض نے ٹویٹ کرکے دیا، بھارتی میڈیا بھی پھر ان ٹوئٹس اور بیانیے کو چلاتا ہے، ناصرف سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلکہ بھارتی میڈیا بھی ان کو چلاتا ہے، عظمیٰ خان بھارتی میڈیا پر بیٹھ کر پی ٹی آئی کو حملہ کرنے کا کہہ رہی ہیں، کتنی خوشی کے ساتھ انڈین
میڈیا آپ کے آرمی چیف کے بارے میں خبریں بیان کررہاہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے اتنے ایشوز ہیں ان پر بات کیوں نہیں کرتے؟ان کے پاس ایک صوبے کی حکومت ہے اس کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتے۔









