Light
Dark

رضاکاروں کا عالمی دن

رضاکاروں کا عالمی دن ہر سال 5 دسمبر کو بھر پور طریقے سے ان لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جو بغیر لالچ، بغیر فائدے کے دوسروں کی خدمت کرتے ہیں۔ 1958 اقوام متحدہ نے اس دن کو با قاعدہ طور پر منانے کا اعلان کیا ۔ اس دن کے منانے کا مقصد رضاکاروں کی خدمات کو سراہنا، ان کی محنت کا اعتراف کرنا، اور معاشرے کی بہتری میں ان کے کردار کو اُجاگر کرنا ہے ۔ دنیا بھر میں رضاکار قدرتی آفات، حادثات، سماجی مسائل، صحت، تعلیم، ماحولیات، ٹریفک مینجمنٹ، فلاحی کاموں، اور کمزور طبقوں کی مدد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مشکل حالات کاشکار انسانیت کی خدمت ان کا مذہبی فریضہ ہے جبکہ حکومت اور عوام بھی رضاکارانہ خدمت کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ہزاروں تنظیمیں اور لاکھوں نوجوان رضاکارانہ سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ ہلالِ احمر پاکستان، ریسکیو 1122، ایدھی فاؤنڈیشن، طلبہ تنظیمیں، ٹریفک پولیس کے رضاکار، اور مختلف فلاحی انجمنیں روزانہ لاکھوں لوگوں کی خدمت کر رہی ہیں۔دنیا بھر میں انسانیت کی خدمت کے لیے عبدالستار ایدھی، مولانا بشیر فاروقی قادری ، فیصل ایدھی اور اقوام متحدہ رضاکاروں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان میں آج کے دن مختلف سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں اور رضا کار آر گنائزیشنز کے زیر اہتمام صوبائی دارالحکومت سمیت ڈویژنل و ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر خصوصی تقریبات، سیمینارز، کانفرنسز، واکس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔رضاکاروں کے عالمی دن کے حوالے سے سرکاری و غیر سرکاری اداروں، متعلقہ تنظیموں، این جی اوز کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیاہے کہ حکومت اور عوام رضا کاروں کے مشن میں تعاون جاری رکھیں گے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کو بہتر بنانے کے لیے خلوص دل کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں خود بھی کسی نہ کسی صورت میں رضاکارانہ خدمات انجام دینی چاہئیں، کیونکہ انسانیت کے لیے اٹھایا جانے والا ہر قدم دراصل ہمارے اپنے مستقبل کو روشن بناتا ہے۔