Light
Dark

مرد ڈاکٹر سے خواتین کی میتوں کا پوسٹ مارٹم کروانے کا انکشاف

لاہور : جنرل اسپتال لاہور میں مرد ڈاکٹر سے خواتین کی میتوں کا پوسٹ مارٹم کروانے کا انکشاف سامنے آیا تاہم پرنسپل نے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کے جنرل اسپتال کے مردہ خانے میں خواتین کی میتوں کا پوسٹ مارٹم مرد عملے سے کرایا جانے کا انکشاف ہوا۔
اس حوالے سے ایک فوٹیج بھی وائرل ہوئی ہے جس میں خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مرد عملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران کسی لیڈی ڈاکٹر یا لیڈی میڈیکل آفیسر کی موجودگی نہیں تھی، حالانکہ طبی اصولوں کے تحت خواتین کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم صرف خاتون ڈاکٹر یا لیڈی میڈیکل آفیسر کی موجودگی میں کیا جا سکتا ہے، مرد عملے سے پوسٹ مارٹم کرانا قواعد و ضوابط کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

واقعے پر پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر فاروق افضل نے نوٹس لے لیا اور تحقیقات کے لیے پانچ رکنی اعلیٰ سطح انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
کمیٹی کی سربراہی پروفیسر خضر حیات گوندل کریں گے، جبکہ ارکان میں پروفیسر حنیف میاں، ڈاکٹر فائزہ اطہر، ڈاکٹر کریم اللہ اور ڈاکٹر یحییٰ سلطان شامل ہیں۔
پروفیسر فاروق افضل نے بتایا کہ کمیٹی واقعے کی مکمل چھان بین کرے گی اور انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے فرانزک ڈیپارٹمنٹ کے کسی ڈاکٹر کو کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا۔
پرنسپل نے مزید کہا کہ جو بھی ملازم یا اہلکار واقعے میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔