اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ آپ کے ہاتھ میں جو موبائل فون ہے، وہ دراصل اسرائیل کا ایک ٹکڑا ہے، کیونکہ دنیا کے بیشتر فونز میں اسرائیلی ٹیکنالوجی شامل ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان امریکی کانگریس کے وفد سے ملاقات کے دوران سامنے آیا، جہاں انہوں نے اسرائیل کی دواؤں، ہتھیاروں اور فون سازی کی صلاحیت پر روشنی ڈالی اور امریکیوں کو متنبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی بدولت حاصل ہونے والے فوائد کو پہچانیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
مصری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک اقتصادی یا سفارتی تفاخر نہیں بلکہ ایک سنگین تزویراتی انتباہ ہے جو قومی سلامتی، سائبر سیکیورٹی اور بین الاقوامی تعلقات پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بیان اسرائیل کے اس گہرے اثر کو ظاہر کرتا ہے جو اس نے عالمی ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے میں قائم کر رکھا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ صرف ٹیکنالوجی کا ذکر نہیں بلکہ اسرائیل کی طاقتور پوزیشن کا اعلان ہے جو دنیا بھر کے افراد اور حکومتوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
یہ بیان سامنے آنے کے بعد عوام میں یہ خوف بھی پیدا ہوا ہے کہ روزمرہ استعمال ہونے والے آلات کو جاسوسی یا نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
غزہ کی تقسیم سے متعلق امریکی حکام سے بات ہوچکی، اسرائیلی وزیر خزانہ
ماہرین کے مطابق اگر موبائل فون میں اسرائیلی ہارڈویئر یا سافٹ ویئر استعمال ہو رہا ہے تو اس میں ممکنہ بیک ڈور خطرات شامل ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے صارفین کی نگرانی، ان کا ڈیٹا حاصل کرنا یا ہنگامی حالات میں ان کے آلات کو غیر فعال کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔









