مظلوم فلسطینیوں کیلیے امداد لے جانے والے پُرامن گلوبل صمود فلوٹیلا (بحری جہازوں کا قافلہ) پر ڈرون حملے کیے گئے جبکہ دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب یونان کے ساحل سے دور دھماکوں کی آوازیں سنین اور متعدد ڈرون حملوں کے بارے میں اطلاع دی۔
گلوبل صمود فلوٹیلا غزہ کی جانب رواں ہے جس کا بنیادی مقصد اسرائیلی محاصرہ توڑ کر مظلوم فلسطینیوں تک خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء پہنچانا ہے۔
بحری جہازوں کے قافلے پر 44 ممالک کے انسانی حقوق کے کارکن، سیاستدان و دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سوار ہیں۔ فلوٹیلا میں رہنما جماعت اسلامی پاکستان و سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی سوار ہیں۔
گلوبل صمود فلوٹیلا نے حالیہ بیان میں کہا کہ متعدد ڈرونز جہازوں پر گرائے گئے، مواصلات کے نظام کو جام کیا گیا اور کئی جہازوں سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم بیان میں یہ نہیں واضح نہیں کیا گیا کہ اس سے کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔
منتظمین کے مطابق ہم ان نفسیاتی کارروائیوں کو براہِ راست دیکھ رہے ہیں لیکن ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
لائف جیکٹ پہنے ہوئے برازیلی منتظم ٹیاگو اویلا نے بدھ کی رات اپنے انسٹاگرام پر اپ ڈیٹ شیئر کی تھی کہ کل 10 حملوں میں متعدد کشتیوں کو بموں اور دھماکا خیز شعلوں سے نشانہ بنایا گیا، ان پر مشتبہ کیمیکلز بھی چھڑکے گئے۔
امریکی کارکن گریگ سٹوکر نے بتایا تھا کہ کریٹ کے ساحل سے دور ان کی کشتی بھی نشانہ بنی۔
اسرائیلی حکام نے فلوٹیلا کے خلاف ڈرونز، دھماکوں یا مواصلاتی مداخلت کے استعمال کی خبروں پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا









