کراچی میں ای چالان کے آٹے ہی نوسرباز گروہ بھی سرگرم ہوگئے ہیں۔
رہنما نیوز کے مطابق کراچی کے شہریوں کو ٹریفک پولیس کے جعلی چالان بھیجے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا، ٹریفک پولیس نے عام نمبرز کے ذریعے ای چالان بھیجے جانے کی تردید کردی۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال میسج کے ذریعے چالان نہیں بھیجے جارہے۔
پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قسم کے فراڈ سے دور رہیں۔
علاوہ ازیں کراچی میں تین روز کے دوران کتنے چالان ہوئے تمام تفصیلات رہنما نیوز نے حاصل کرلیں۔
سیٹ بیلٹ نہ لگانے والوں کے 6 ہزار سے زائد چالان کردیے گئے اور ان کا 10 ہزار روپے کا چالان کیا گیا ہے، 1700 سے زائد چالان اوور اسپیڈنگ پر کیے گئے، موٹر سائیکل کی اوور اسپیڈنگ پر 5 ہزار روپے کا چالان بنتا ہے جبکہ گاڑیوں کی اوور اسپیڈنگ پر 10 ہزار روپے چالان کی رقم مقرر ہے، ہیوی ٹریفک کی اوور اسپیڈنگ پر 20 ہزار روپے کا چالان ہوتا ہے۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ 2 ہزار سے زائد چالان موٹر سائیکل پر ہیلمٹ نہ پہننے والوں کے کیے گئے ہیں، ہیلمٹ نہ پہننے والے افراد 5 ہزار روپے کے حساب سے چالان بھریں گے۔
گاریاں، موٹر سائیکل چلاتے ہوئے موبائل فون کے استعمال پر 450 چالان ہوئے، 790 چالان سگنل کی خلاف ورزی پر جاری کیے گئے ہیں، ٹینٹڈ گلاس، ون وے، رونگ وے، غیر قانونی پارکنگ پر بھی شہریوں کے چالان کیے گئے ہیں۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ تین روز کے دوران کئی سرکاری نمبر پلیٹ کی گاڑیوں کے چالان کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 2053 چالان ہیلمٹ نہ پہننے والے موٹر سائیکل سواروں کے ہوئے ہیں۔ چالان کی مد میں تین روز کے دوان ایک کروڑ 2 لاکھ 65 ہزار روپے کے چالان کیے گئے ہیں









