Light
Dark

ایم کیو ایم کا ای چالان پر ٹریفک پولیس پر الزام

کراچی (29 اکتوبر 2025): متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں ای چالان سسٹم کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی بھی ٹریفک پولیس کی رشوت ستانیوں کو نہ روک سکی ہے۔
ایم کیو ایم اراکینِ سندھ اسمبلی نے کراچی میں ای-چالان سسٹم کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ صرف 6 گھنٹوں میں سوا کروڑ روپے کے جُرمانے عائد کرنا حکومتی لالچ کو ظاہر کرتا ہے، نیز نئی ٹیکنالوجی بھی ٹریفک پولیس کی کرپشن نہ روک سکی اور کھلے عام شہریوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
ایم کیو ایم نے تنقید کی ہے کہ ای چالان سسٹم شہریوں پر محض مالی بوجھ ڈالنے اور صوبائی خزانے کو بھرنے کا ذریعہ ہے، اس سے ٹریفک پولیس کے نظام میں موجود کرپشن اور بدعنوانی کی جڑیں مزید گہری ہوتی جا رہی ہیں۔
شہر کی سیاسی پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ سڑکوں پر جدید کیمروں کی تنصیب بھی ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو اپنی جیبیں گرم کرنے سے باز نہیں رکھ سکی، شہری آج بھی سڑکوں پر رشوت ستانی اور لوٹ مار کے عذاب سے دوچار ہیں، اہلکار معمولی خلاف ورزی پر عام شہریوں کو روک کر کھلے عام بھتہ وصول کر رہے ہیں اور ہراساں کر رہے ہیں۔
اراکین سندھ اسمبلی کا کہنا ہے کہ غریب شہری معمولی غلطی پر بھاری جُرمانے ادا کرنے پر مجبور ہیں، اور انسانی جانیں لیتے ٹینکرز اور ڈمپرز پولیس کی سرپرستی میں آزادی سے گھوم رہے ہیں، سندھ حکومت اس دوہرے معیار کو فوری طور پر ختم کرے، انھوں نے مطالبہ کیا کہ شہریوں سے لوٹ مار بند کی جائے، اور ٹریفک پولیس کی بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ایم کیو ایم کا مؤقف ہے کہ جب تک سڑکوں پر انتظامیہ کی ملی بھگت جاری رہے گی، کوئی بھی ٹیکنالوجی اس ظلم کو ختم نہیں کر سکتی۔