اسلام آباد (27 اکتوبر 2025): حکومت کی مسلسل کوششوں کے باوجود غذائی شعبے (فوڈ سیکٹر) میں جمع ہونے والا سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضہ) کم نہیں ہو سکا۔
ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی دستاویز کے مطابق پاکستان کے غذائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 325 ارب 60 کروڑ سے زائد کی سطح پر برقرار ہے، اسے کم کرنے کے لیے کی جانے والی حکومتی کوششیں بے سود ثابت ہو گئی ہیں۔
مختلف وفاقی و صوبائی ادارے ٹریڈنگ کارپوریشن کے اربوں روپے کے نادہندہ ہیں، اداروں کے ذمہ بنیادی رقم 88 ارب 28 کروڑ روپے ہے، اور مارک اپ 237 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
دستاویز کے مطابق فوڈ ڈپارٹمنٹ پنجاب 17 ارب 59 کروڑ، فوڈ ڈپارٹمنٹ خیبر پختونخواہ 13 ارب 24 کروڑ روپے کا نادہندہ ہے، فوڈ ڈپارٹمنٹ سندھ 9 ارب 58 کروڑ، فوڈ ڈپارٹمنٹ بلوچستان 9 ارب 50 کروڑ روپے کا نادہندہ ہے۔
قومی بچت بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ میں 2 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر بڑا منافع
دستاویز کے مطابق یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن نے ٹی سی پی کو 110 ارب روپے سے زائد ادا کرنے ہیں، فوڈ ڈپارٹمنٹ گلگت بلتستان 6 ارب 72 کروڑ، فوڈ ڈپارٹمنٹ آزاد کشمیر 2 ارب 27 کروڑ کا نادہندہ ہے۔
این ایف ایم ایل ٹی سی پی کا 126 ارب 78 کروڑ روپے سے زائد کا نادہندہ ہے، پاسکو نے 6 ارب 15 کروڑ، وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے 2 ارب 85 کروڑ ادا کرنے ہیں، وزارت صنعت و پیداوار نے 18 ارب 75 کروڑ روپے ادا کرنے ہیں۔
ٹی سی پی ہر 15 روز بعد نادہندگان کو ریمائنڈرز جاری کر رہا ہے، اور نادہندگان کی جانب سے ٹی سی پی کو جواب نہیں دیا گیا









