Light
Dark

چین ، بھارت 5 سالہ معطلی کے بعد براہ راست پروازوں کو شروع کرنے کا منصوبہ

بیجنگ (3 اکتوبر 2025): چین اور بھارت 5 سالہ معطلی کے بعد کچھ شہروں کے درمیان براہ راست پروازوں کو دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ بیان بھارتی حکام کی جانب سے دیا گیا جن کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آنا شروع ہوئی ہے۔
چین اور بھارت کے درمیان براہ راست پروازوں کو 2020 میں کووڈ کی وبا کے دوران معطل کر دیا گیا تھا اور بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان طویل سرحدی تناؤ کی وجہ سے یہ دوبارہ شروع نہیں ہو سکی تھیں۔
چین میں بھارتی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’وی چیٹ‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ کچھ شہروں کے درمیان براہ راست پروازیں اکتوبر کے آخر تک کمرشل کیریئرز کے فیصلوں کے تابع دوبارہ شروع ہوں گی۔
سفارتخانے نے مزید کہا کہ یہ بحالی بھارتی حکومت کے چین اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بتدریج معمول پر لانے کے نقطہ نظر کا حصہ ہے۔
بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن ’انڈی گو‘ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ وہ 26 اکتوبر 2025 سے بھارت کے شہر کولکتہ سے چین کے شہر گوانگ ژو تک براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرے گی۔
واضح رہے کہ مذکورہ پیشرفت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے گزشتہ ماہ 7 سال میں پہلی بار چین کے دورے کے بعد ہوئی جہاں وہ ایک علاقائی سکیورٹی فورم میں شریک ہوئے تھے جو دونوں ممالک کی طرف سے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کا حصہ تھا۔
چین اور بھارت کے تعلقات 2020 میں اُس وقت خراب ہوگئے تھے جب ہمالیہ کے پہاڑوں میں متنازع سرحد پر سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، بدترین تشدد میں چار چینی فوجی اور 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے جس نے اعلیٰ سطحی سیاسی روابط کو منجمد کر دیا تھا۔