نیویارک : امریکی محکمہ انصاف نے بھارتی بدنامہ زمانہ خفیہ ادارے کو کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں براہ راست ملوث قرار دیدیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کی بین الاقوامی دہشت گردی پھر بے نقاب ہوگئی، کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی را کا براہ راست تعلق سامنے آگیا۔
امریکی محکمہ انصاف نے نیویارک کی سدرن ڈسٹرکٹ کورٹ میں نکھل گپتا کے خلاف مقدمے کے دوران ناقابلِ تردید ثبوت پیش کیے ہیں، جن میں بھارتی خفیہ افسر وکاس یادو کو نجر کے قتل سے براہِ راست منسلک قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی سات سیکنڈ کی ویڈیو سب سے پہلے وکاس یادو نے نکھل گپتا کو بھیجی، جس نے بعدازاں یہ ویڈیو خفیہ ایجنٹوں کو آگے بھیجی۔
عدالت میں یادو اور گپتا کے درمیان پیغامات بھی پیش کیے گئے، جن سے دونوں کے قریبی تعلقات اور قتل میں دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔
امریکی محکمہ انصاف نے کہا ویڈیو ملنے کے بعد گپتا نے یادو کو پیغام بھیجا کہ “افسوس یہ کام میں نے نہیں کیا”، جس پر یادو نے جواب دیا “مجھے بھی یہی افسوس ہے بھائی جی”۔
عدالت میں ایک آڈیو کال بھی پیش کی گئی جو انیس جون 2023 کو قتل کے اگلے دن کی ہے، جس میں گپتا خفیہ ایجنٹ کو بتاتا ہے “یہ کینیڈا کا ایک کام تھا، ہمارے پاس بہت سے ٹارگٹ ہیں، خوشخبری یہ ہے اب انتظار کی ضرورت نہیں۔”
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق نکھل گپتا اسلحہ اور منشیات اسمگلنگ سمیت متعدد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے، جو ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی منصوبہ بندی سے براہِ راست منسلک ہیں۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئے شواہد نہ صرف بھارت اور کینیڈا کے پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر سکتے ہیں بلکہ امریکا کو بھی اس معاملے میں براہِ راست شامل کر سکتے ہیں۔
امریکی عدالت میں پیش کردہ ثبوت بھارت کے لیے شدید سفارتی دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔









