Light
Dark

امریکی صدر کے طیارے کے سامنے اچانک دوسرا جہاز آ گیا!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنی اہلیہ کے میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ تین روز قبل برطانیہ پہنچے۔ تاہم برطانیہ آمد سے قبل زمین سے ہزاروں فٹ بلندی پر ان کا ایئرفورس طیارہ اس وقت بڑے حادثے کا شکار ہونے سے بال بال بچ گیا، جب اچانک ایک مسافر جہاز ان کے طیارے کے بالمقابل آ گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر کے ایئرفورس ون کے طیارے نے برطانیہ روانگی کے لیے جیسے ہی نیویارک سے اڑان بھری۔ اس کے کچھ دیر بعد ہی ان کے طیارے کے راستے میں اچانک ایک مسافر طیارہ آ گیا۔ ریڈار کے ذریعہ یہ منظر دیکھ کر امریکی ایوی ایشن میں کھلبلی مچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق اسپرٹ ایئرلائن کا طیارہ اسپرٹ ایئر بس SE A321 فورٹ لاڈرڈیل سے بوسٹن جا رہا تھا۔ جب ایئر ٹریفک کنٹرول نے دیکھا کہ امریکی صدر کے طیارے کے بالمقابل یہ طیارہ آ گیا ہے اور دونوں کے درمیان صرف 12 کلومیٹر کا فاصلہ باقی رہ گیا تو ایئرٹریفک کنٹرول روم میں ہلچل مچ گئی اور ایئر کنٹرول ٹیم میں ہائی الرٹ ہونے کے بعد فوری طور پر مسافر طیارے کو ہدایات بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔
پہلی بار ہدایت ملنے پر مسافر طیارے کے کپتان کی جانب سے کوئی ردعمل نہ آنے پر ایئر ٹریفک کنٹرول کا عملہ برہم ہو گیا اور سگنل کے ذریعہ چار بار بار صوتی ہدایت نامہ مذکورہ جہاز کے پائلٹ کو بھیجا اور بتایا کہ ان کے طیارے کے پیچھے امریکی صدر کا طیارہ 747 ہے۔
ایئر ٹریفک کنٹرولر نے پائلٹ کو اپنا طیارہ 20 ڈگری دائیں جانب موڑنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جہاز کو بائیں جانے سے 8 میل دور ہٹا دیں، تاکہ صدر ٹرمپ کا طیارہ بحفاظت وہاں سے گزر سکے۔
بعد ازاں مسافر بردار طیارہ ایئر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے 20 ڈگری دائیں جانب مڑ گیا، جس کے بعد ٹرمپ کا طیارہ بحفاظت وہاں سے گزر گیا اور یہ طیارہ بھی تمام مسافروں کو لے کر بحفاظت اپنی منزل پر پہنچ گیا۔

قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ کے سفر کے لیے بوئنگ-747 کا 2 طیارہ ہے، جس کا کوڈ 28000 اور 29000 ہے۔ اس طیارہ کے لیے ایئر فورس عہدہ کا نام وی سی-25 اے ہے۔ ٹرمپ کے لیے مختص اس طیارہ کو ایئر فورس ون نام دیا گیا ہے جو ایک ٹیکنیکل نام ہے۔
ٹرمپ کے اس طیارے پر امریکا کا نشان اور قومی پرچم لگا ہوتا ہے۔ سفید رنگ کے اس طیارہ کی رینج کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہ فضا میں ہی ایندھن بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ طیارہ حملے کی صورت میں فوراً موبائل کمانڈ سنٹر کے طور پر بھی کام کر سکت۔ ہے۔