وفاقی دارالحکومت کو یوم دفاعِ سے قبل بنوں کینٹ طرز کے حملے سے بچالیا گیا۔
سول انٹیلی جنس ایجنسی نے اہم سہولت کاروں اور ایک خودکش بمبار کو گرفتار کر لیا جو ایک حساس تنصیب کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا رہے تھے، حملہ بنوں طرز پر ہونا تھا یہ منصوبہ اس گروپ نے بنایا جس کی قیادت ماضی میں نور ولی محسود کرتا تھا۔
تحقیقات میں شامل ایک اہلکار کے مطابق بمبار نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں واقع ’الفاروق فدائی کیمپ‘ میں تربیت حاصل کی، جہاں اس کے انسٹرکٹر مخلص یار (عرف حاجی لالا) تھا جو جنوبی وزیرستان کے رہائشی اور نور ولی محسود و حکیم اللہ محسود کا قریبی ساتھی ہے۔
کمانڈر اور بمبار دونوں اسی کیمپ سے فارغ التحصیل ہیں، کمانڈر کا ابتدائی کام جڑواں شہروں میں حساس مقامات کی ریکی کرنا تھا، جون میں وہ افغانستان گیا جہاں اسلام آباد کے ٹارگٹ کو حتمی شکل دی گئی، اس حملے کے اثرات عالمی سرخیوں کا حصہ بننے کے لیے تصور کیے گئے تھے۔
گرفتار خودکش بمبار ایک افغان شہری ہے جو کابل میں مزدوری کرتا تھا اور بعد ازاں ٹی ٹی پی سے وابستہ ہوگیا۔









