لاہور: چکوال میں سی سی ڈی اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے معصوم بچی ہانیہ کی ہلاکت کے معاملے میں لاہور ہائیکورٹ نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے درخواست کو سی سی ڈی کی تشکیل اور اختیارات سے متعلق زیرِ سماعت بنیادی کیس کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چکوال میں سی سی ڈی اہلکاروں کی مبینہ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں بچی کی موت محض ایک حادثہ نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزار نے شفاف تحقیقات اور تمام شواہد محفوظ بنانے کے لیے عدالت سے مداخلت کی استدعا کی۔
درخواست میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کے نام، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر متعلقہ ریکارڈ طلب کیا جائے۔ ساتھ ہی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) میں متاثرہ خاندان یا ان کے وکیل کو شامل کرنے کی بھی درخواست کی گئی۔
درخواست گزار نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ سی سی ڈی کے قواعد و ضوابط میں ضروری تبدیلیوں کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہانیہ ہلاکت کیس کی درخواست کو سی سی ڈی کی تشکیل اور دائرہ کار سے متعلق زیرِ سماعت بنیادی مقدمے کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔









