سعودی عرب میں ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی کی جانب سے اندرون شہر اور ایئرپورٹس پر ٹیکسی سروس کے لیے نئے ضوابط جاری کیے گئے ہیں۔
سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اتھارٹی نے ٹیکسیوں کے اندر اشتہاری سکرین لگائے جانے کے حوالے سے عوامی سروے کے بعد مشروط منظوری جاری کی ہے جس کے مطابق اشتہاری سکرین ایسی جگہ نصب کی جائے جس سے ڈرائیور کی توجہ متاثر نہ ہو۔
نئے ضوابط کے مطابق جنرل اور ایئرپورٹ ٹیکسی کیلیے ’آپریشنل پرمٹ‘ حاصل کرنا ضروری ہوگا جس کے بغیر ٹیکسی سروس فراہم نہیں کی جاسکتی۔ پرمٹ کارآمد ہونا ضروری ہے۔
آپریشنل پرمٹ کے اجرا کیلیے ضوابط کے مطابق جو گاڑی ٹیکسی کیلیے استعمال کی جائے وہ نئی ہو اور اس سے قبل مملکت میں اس کی رجسٹریشن نہ کی گئی ہو۔
رپورٹس کے مطابق گاڑی 5 برس سے زیادہ ٹیکسی کیلیے استعمال نہ کی جائے۔ ٹریفک پولیس کے ادارے میں گاڑی کی رجسٹریشن ٹیکسی کے طور پر ہی کرائی گئی ہو۔ ڈرائیور حضرات کے پاس عوامی ڈرائیونگ لائسنس اور پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹ ہونا لازمی ہے۔
ٹیکسی کے ڈرائیور کا پرمٹ جاری کرانے کیلیے ضروری ہے کہ اس کا ورک کارڈ پیشہ ورانہ ڈرائیور کا ہو اور وہ مقررہ ضوابط پرپورا اترتا ہو۔
جنرل ٹیکسی ڈرائیور جس کا پرمٹ شہر کے اندر کا ہے اس یہ حق ہوگا کہ وہ مسافروں کو دوسرے شہر لے جائے تاہم واپسی پر وہ سواریاں نہیں لا سکتا۔
ٹیکسی کے اندر تمباکو نوشی سے گریز کریں، ڈرائیور اپنی اور گاڑی کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ مقررہ یونیفارم کی پابندی کریں۔ مسافروں کی پرائیوسی خراب نہ ہونے پائے۔
سعودی عرب کی ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے ڈرائیور کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے اسے یہ اختیار دیا کہ وہ مخصوص حالتوں میں مسافر کو لے جانے سے منع کرسکتا ہے جن میں ٹیکسی میں تمباکو نوشی کرنا یا کھانا وغیرہ کھانا۔
اس کے علاوہ ڈرائیور کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ سفر کے دوران حفاظتی بیلٹ استعمال نہ کرنے۔ ڈرائیور کے ساتھ غیرمناسب رویہ رکھنے، گاڑی کو خراب کرنے اور اخلاق عامہ کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں مسافر کو لے جانے سے انکار کرسکتا ہے۔









