سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے شعبہ آئی ٹی اور بزنس ایجوکیشن سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طلباء و طالبات نے جامعہ کے مرکزی گیٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ متعدد بار یاد دہانی اور تحریری درخواستوں کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے ایکریڈیشن کا سنگین مسئلہ حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی، جس کی وجہ سے ہزاروں طلباء کے مستقبل کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں
طلبہ نے الزام عائد کیا کہ فیسوں کی مد میں لاکھوں روپے بٹورنے کے باوجود انتظامیہ کی غفلت اور لاپروائی نے انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ احتجاج کرنے والے طلباء کا کہنا تھا کہ مسئلہ کے حق میں آواز بلند کرنے والے طلباء کو یونیورسٹی سے اخراج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جو آزادی اظہار کے خلاف ہے۔
طلباء نے وزیراعلیٰ سندھ، گورنر سندھ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے اپیل کی کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے ایکریڈیشن کے مسئلے کو حل کروائیں تاکہ ہزاروں طلباء و طالبات کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
احتجاجی طلباء نے تمام سیاسی جماعتوں کی خاموشی پر بھی شدید مایوسی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ تعلیمی مسائل کو سیاسی ترجیحات سے بالا رکھتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں









