Light
Dark

واٹر بورڈ ٹریبونل احتساب پانی چوری

تحریر- سید اسلم شاہ
. . اصلاحات کے وعدےاور دھوکہ، مگر کچھ نہیں بدلا: واٹر بورڈ ٹریبونل احتساب پانی چوریاور زمین کی واگزاری میں ناکام
کراچی (رپورٹ۔: اسلم شاہ)کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدہ سنبھالتے ہی یہ توقعات پیدا ہوئی تھیں کہ برسوں سے رکی ہوئی ادارہ جاتی اصلاحات اب عملی شکل اختیار کریں گی۔ حکومت نے نئے واٹر کارپوریشن ایکٹ کے تحت خصوصی ٹریبونل قائم کیا اور مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے ایک مستقل عدالتی افسر بھی تعینات کر دیا۔
حکام کے مطابق یہ اقدام ’’احتساب اور شفافیت کے ایک نئے دور‘‘ کا آغاز تھا — ایک ایسے ادارے میں جو طویل عرصے سے سیاسی مداخلت، غیر قانونی قبضوں اور انتظامی سستی کا شکار رہا ہے۔
لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود، اندرونی ذرائع کے مطابق ٹریبونل کوئی نمایاں پیش رفت نہیں دکھا سکا۔ اگرچہ عدالتی افسر کی تعیناتی ہو چکی ہے، مگر تاحال کوئی قابلِ ذکر سماعت، فیصلہ یا عمل درآمد سامنے نہیں آیا۔

غیر قانونی ہائینڈرنٹس، سب سوئل واٹر پانی لائنوں کا سلسلہ نہ روک سکا نہ کسی کا مقدمہ ٹربیونل میں پیش کیا گیا نہ کسی تحریری شکایات ٹربیونل میں درج کیا ہے
قبضہ مافیا کے کیس بدستور غیر حل شدہ
ٹریبونل کے دائرہ اختیار میں آنے والے مقدمات میں ایک اہم کیس سی او ڈی کے قریب واٹر بورڈ کی قیمتی زمین پر قبضے سے متعلق تھا۔ یہ جگہ ماضی میں واٹر بورڈ کے ملازمین کے لیے ٹینس کورٹ اور کے ڈی اے ڈسپنسری کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔
تاہم ریکارڈ کے مطابق سابقہ انتظامیہ کے ادوار میں چند سابق ایم ڈیز اور افسران نے نجی افراد کے ساتھ ملی بھگت کر کے اس زمین پر غیر قانونی طور پر بنگلے تعمیر کرا دیے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک موقع پر کارروائی کرتے ہوئے ان جائیدادوں کو سیل کیا اور زمین کو سرکاری قرار دیا، مگر یہ آپریشن ادھورا رہ گیا۔
مقدمہ فائلوں کی گرد میں دفن

حکومت کی اصلاحاتی پالیسی کا پہلا امتحان
ماہرین کے مطابق ٹریبونل کا غیر فعال ہونا حکومت کی اصلاحاتی مہم کے لیے پہلا بڑا امتحان بن چکا ہے۔ واٹر بورڈ ایکٹ 2023 کو بدعنوانی کے خاتمے کی بنیاد کہا گیا تھا، مگر اس کے نفاذ کے ابتدائی مراحل ہی میں وہی پرانی تاخیر، غفلت اور خاموش ملی بھگت نمایاں ہو گئی ہے۔
عوام کے لیے پرانے وعدے، نئی مایوسیاں
کراچی کے شہری جو پانی کی قلت، غیر قانونی ہائیڈرنٹس، سب سوئل واٹر،غیر پانی کی چوری اور ناقص انتظامیہ سے پہلے ہی پریشان ہیں، ان کے لیے اصلاحات کے وعدے اب محض نعرے لگتے ہیں۔ ٹریبونل بنے، ججز لگے، احتساب کے دعوے ہوئے — مگر آج تک کوئی بڑا مقدمہ حل نہیں ہوا، نہ کسی افسر کو زمینوں پر قبضے یا بدانتظامی پر سزا ملی۔
لینڈ کو بطور پعوجیکٹ ڈائر قرار دیکر ایک ریٹائر ریونیو افسریوسف عباسی کو تعینات کردیا گیا اس سے بھی مایویس کن کارکردگی ہے
آخرکار واٹر بورڈ کی اصلاحات کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ نئی قیادت کاغذی اقدامات کو عملی شکل دے سکتی ہے یا نہیں — اور یہ کہ کیا ٹریبونل یہ ثابت کر پائے گا کہ کراچی کے پانی کے شعبے میں انصاف صرف ایک خبر کی سرخی نہیں بلکہ ایک حقیقت بھی بن سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ کیس کبھی بھی نیب کی پراسیکیوشن برانچ تک نہیں پہنچا۔