حکومت نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک کا ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے، جبکہ انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کیے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد کو ریلیف فراہم کرنے کی تجاویز تیار کی جا رہی ہیں، جبکہ زیادہ آمدن والے ملازمین کے لیے بھی ٹیکس شرح میں نرمی کا امکان ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن رکھنے والوں کے انکم ٹیکس میں 5 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے بعد اس سلیب پر ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد تک آ سکتی ہے۔ اس اقدام سے تقریباً 4 لاکھ تنخواہ دار ملازمین کے مستفید ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہانہ 4 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر 29 فیصد اور 5 لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدن پر 32 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ تاہم 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ماہانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے زیادہ سے زیادہ 35 فیصد ٹیکس شرح برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔
اسی طرح سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد پر بھی 35 فیصد ٹیکس شرح لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سالانہ ایک کروڑ روپے سے زیادہ آمدن والوں پر عائد سرچارج ختم کیے جانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان تجاویز کی حتمی منظوری آئندہ وفاقی بجٹ کے اعلان کے وقت سامنے آئے گی۔









