اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ ایسا بجٹ ہے جس کی تعریف سیاسی مخالفین بھی کر رہے ہیں، تاہم بعض عناصر تنقید برائے تنقید کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ معروف ماہر معیشت مفتاح اسماعیل نے بھی بجٹ کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا، زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم سطح پر تھے، درآمدات کے لیے ایل سیز نہیں کھل رہی تھیں اور مہنگائی کی شرح 38 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث معیشت میں استحکام آیا، روپے کی قدر بہتر ہوئی اور ملک کو بحران سے نکالا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور وزیر اعظم شہباز شریف نے نواز شریف کے وژن کے مطابق معاشی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، صنعتوں، برآمد کنندگان اور آئی ٹی شعبے کو ریلیف دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ نجی شعبے میں کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی سیکٹر اور فری لانسرز پر کوئی اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا اور حکومت اس شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی ترقی کے لیے وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے گئے ہیں جبکہ زرعی اور کاروباری قرضوں سے تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار نوجوان مستفید ہوں گے۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ زرعی شعبے اور نوجوان گریجویٹس کی ترقی کے لیے ایک ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے تاکہ روزگار اور کاروباری مواقع میں اضافہ کیا جا سکے۔









