وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی سہولت کاری کے نیٹ ورک میں ایک اہم ادارے کا سرکاری افسر بھی ملوث ہے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ضیا نامی شخص دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہا تھا، جسے سیاسی پشت پناہی حاصل تھی، جبکہ اکبر نامی سرکاری ملازم بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہے اور افغانستان سے کشمیر تک اسلحے کی ترسیل میں ملوث رہا ہے۔
طلال چوہدری کے مطابق ضیا کے مختلف سہولت کاروں سے رابطے تھے اور اسے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آزاد کشمیر میں ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے، جبکہ منشیات، اسلحے، پیٹرول اور گاڑیوں کی اسمگلنگ میں ملوث ٹیرر کرائم نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جارہے ہیں اور دہشت گردی و سہولت کاری کے نیٹ ورک کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔









