Light
Dark

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: فضائی سفر متاثر، پروازوں کے دورانیے میں نمایاں اضافہ

ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے میں فضائی سفر شدید متاثر ہو گیا ہے، جس کے باعث کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر امارات کی فضائی حدود کا استعمال ترک کر دیا ہے۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق مختلف پروازیں اب متبادل اور طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے نہ صرف سفر کا دورانیہ بڑھ گیا ہے بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی پروازیں بھی اب اماراتی فضائی حدود کے بجائے سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کر رہی ہیں۔ یہ پروازیں سعودی عرب کے مغربی اور جنوبی علاقوں سے گزرتے ہوئے مسقط کے راستے اپنا روایتی روٹ اختیار کر رہی ہیں۔

نئے روٹس کے باعث دمام سے اسلام آباد جانے والی پروازوں کے دورانیے میں تقریباً ایک گھنٹہ چالیس منٹ تک اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ دمام سے لاہور اور ملتان کی پروازوں میں بھی ڈیڑھ گھنٹے تک اضافی وقت لگ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث فضائی آپریشنز پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔