یورپی یونین نے منجمد روسی اثاثے یوکرین کی مدد کیلئے استعمال کرنے کا منصوبہ بنا لیا جبکہ یوکرین کو نیٹو ممبر بنانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق یوکرین کیلئے 163 ارب ڈالرز روسی مرکزی بینک کے منجمد اثاثے استعمال کرنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے، یورپی کونسل کے صدر نے یوکرین کو مستقبل کا نیٹو ممبر بھی قرار دیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کو مزید امریکی فوجی امداد دینے کی امکانات کو مسترد کردیا گیا ہے۔
اب روس کے مہلک حملوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، یورپی رہنما یوکرین کے دفاع کے لیے مالی اعانت کے لیے ایک نیا طریقہ تلاش کر رہے ہیں، اس کےلیے مغرب میں منجمد اربوں کے روسی ریاستی اثاثوں کے استعمال کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
توقع ہے کہ یورپی یونین کے رہنما جمعرات کو برسلز میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں اس خیال کی منظوری دیں گے،
سویڈن اورفن لینڈ نے منصوبے کی حمایت کردی ہے جبکہ بیلجیئم کے قانونی ضمانتوں پر تحفظات ہیں،اگرچہ اس منصوبے کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے کئی اہم تفصیلات پر اتفاق کرنا پڑے گا۔
سربراہ یورپی یونین خارجہ پالیسی نے کہا کہ روسی منجمد اثاثوں کو یوکرین کیلئے استعمال کرنا چاہیے جبکہ روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اثاثے ضبط کرنا غیرقانونی، یورپ اب چوری کرنے جارہا ہے۔









