Light
Dark

بیکن ہاؤس یونیورسٹی لاہور میں قادیانیت کے خلاف کامیابی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت روز اول سے ملک پاکستان اور دوسرے ممالک میں عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کا فریضہ بڑی جانفشانی سے ادا کررہی ہے۔ اس جماعت نے ہمیشہ فتنہ قادیانیت کی ریشہ دوانیوں پر گہری نظر رکھی ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ آج تک قادیانی اور قادیانی نوازلوگوں کی تمام تر کوششیں ناکام ہوتی رہی ہیں۔
گزشتہ کل مجلس کے حضرات کو اطلاع ملی کہ بیکن ہاؤس یونیورسٹی لاہور میں رابعہ نامی لڑکی جو کہ یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ افیئر ز کی انچارج ہے، نے یونیورسٹی میں ایک سیشن ارینج کرنے کا اعلان کیا ہے ، جس کا عنوان ’’ قادیانیوں پر مظالم کی تاریخ‘‘ رکھا گیا ہے۔اس پروگرام کے سلسلہ میں یونیورسٹی کے طلباء وطالبات کو ای میلز بھی کی گئیں کہ وہ اس پروگرام میں وقت پر پہنچیں۔
یہاں چند ایک سوالات جنم لیتے ہیں۔
یونیورسٹی کے طلباء میں قادیانیوں کو مظلوم دکھا کر ہمدردیاں بٹورنے اور قادیانیت کی تبلیغ کس قانون کے تحت کی جارہی ہے؟
جن کو پاکستان کا لاء(قانون) مسلمان بن کر رہنے کی اجازت نہیں دیتا ،اور وہ خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ کیا وہ مظلوم ہیں؟
جو آئین کو تسلیم نہیں کرتے ان کو غیر آئینی طور پر ایسے پروگرام کی اجازت کس بنیاد پر دی جارہی ہے؟
جن کو تبلیغ کی اجازت آئین نہیں دیتا اور سیمینار اور وہ بھی ایک تعلیمی ادارے میں کیسے منعقد کرسکتے ہیں؟
اس خبر کے موصول ہونے کے بعد آج صبح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماء مولانا عزیز الرحمن ثانی کی زیر نگرانی جناب پیر رضوان نفیس صاحب، مولانا قاری علیم الدین شاکر، مولانا خالد محمود، مولانا حامد بلوچ،مولانا عبدالنعیم ، مولانا سمیع اللہ ودیگر حضرات کی کوششوں سے یونیورسٹی انتظامیہ نے اس سیشن کو کینسل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس پر قادیانیوں کو ایک اور شکست ملی ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ملک پاکستان میں ان کی تمام سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کا بھر پور تعاقب بھی کیا جاتا رہے گا۔اس سلسلہ میں جس جس نے بھی اس پروگرام کو کینسل کرانے کی سعی فرمائی، اورصدائے احتجاج بلند کی۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان کا شکریہ ادا کرتی ہے۔