جرمن چانسلر کا حماس کی جانب سے ٹرمپ کا بیس نکاتی غزہ امن منصوبہ بڑی حد تک قبول کرنے پر کہنا ہے کہ غزہ میں امن کے لیے یہ بہترین موقع ہے۔
جرمن چانسلر نے کہا کہ یرغمالی رہا اور حماس غیر مسلح اور لڑائی فوری ختم ہونی چاہیے، یہ سب انتہائی تیزی سے ہونا چاہیے، تقریبا دو سال بعد امن کے لیے یہ بہترین موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ حماس نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیس نکاتی غزہ امن منصوبہ بڑی حد تک قبول کرلیا ہے۔
حماس نے یرغمال اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور غزہ کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ ہتھیار مستقبل کے فلسطینی حکمرانوں کے حوالے کرے گی۔
دوسری جانب الجزیرہ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کمی آ گئی ہے۔
وسطی غزہ کے علاقے دی البلح میں رپورٹنگ کرنے والے الجزیرہ کے رپورٹر ہانی محمود نے اطلاع دی ہے کہ ٹرمپ کے اعلان کے بعد حملوں میں کمی آئی ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ کے مطالبے کے مطابق اسرائیلی بمباری رک گئی ہے یا نہیں۔
الجزیرہ کا کہنا ہے کہ جب ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی میں خطاب کرنے والے تھے، اور حماس نے ان کے 20 نکاتی منصوبے کے اہم نکات سے اصولی طور پر اتفاق کر لیا تھا، تو غزہ کی پٹی میں آدھی رات کے قریب غیر معمولی سکون دیکھا گیا۔
غزہ میں امن کے لیے بڑی پیش رفت، حماس ٹرمپ کے مجوزہ جنگ بندی منصوبے پر رضامند
رپورٹرز کے مطابق غزہ کے شمالی حصے سے اب بھی دھواں اٹھ رہا ہے اور ہلکی فائرنگ اور اسرائیلی فوجی گاڑیوں کی حرکت کی آوازیں واضح طور پر سنی جا سکتی ہیں۔
ہانی محمود نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں کے مقابلے میں، آج صبح بمباری کی شدت اور بھاری اسلحے کے استعمال میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، ہو سکتا ہے یہ مکمل رکنے کا آغاز ہو۔ غزہ کی فضا میں ہمیشہ گونجتی رہنے والی اسرائیلی ڈرونز کی مخصوص آواز بھی آج صبح سنائی نہیں دی۔









