Light
Dark

حماس کے بارے میں ٹرمپ کے مثبت ردعمل سے نیتن یاہو دنگ رہ گئے

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میڈیا کہہ رہا ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حماس کے بارے میں کچھ مثبت الفاظ کے بعد دنگ رہ گئے اور صدمے میں ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے کہا کہ حماس کا ردعمل بنیادی طور پر مثبت سمت میں جا رہا ہے اور ساتھ ہی اسرائیل سے غزہ پر بمباری روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
نیتن یاہو حماس کے بیانات کے جواب میں ایک مشترکہ اسرائیلی امریکی ردعمل کو مربوط کرنا چاہتے تھے لیکن ایسا نہیں ہو سکا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ نیتن یاہو کہاں کھڑے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم کو اب اپنی اتحادی حکومت کا سامنا کرنا ہے، انہیں اپنے اتحاد کے اندر اس معاہدے پر بات چیت کرنی ہے، بالآخر اسے ووٹنگ کیلیے پیش کیا جائے گا۔
لیکن اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے پاس سیاسی تحفظ کا جال ہوگا یعنی اگر ان کے دائیں بازو کے اتحاد کے ارکان اس معاہدے میں شامل نہیں ہونا چاہتے تو اپوزیشن پارٹیاں قدم بڑھا کر ایک قسم کی اتحادی حکومت تشکیل دے سکتی ہیں۔
یہ اتحادی حکومت اس معاہدے کو منظور کرے گی اور پھر ملک انتخابات کی طرف جائے گا۔
ہم اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلخانہ سے بھی سن رہے ہیں کہ وہ امریکی صدر کے بیان کی مکمل حمایت کرتے ہیں بشمول غزہ کے اندر بمباری روکنے کے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ صرف نقصان پہنچائے گی اور شاید ان یرغمالیوں کو ہلاک کر دے جو ابھی بھی وہاں قید ہیں۔
اسرائیل کے اندر پہلے سے ہی کافی سیاسی ہلچل ہے اور 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں ہم اسرائیل کی سڑکوں پر اس معاہدے کیلیے مظاہرے دیکھنے جا رہے ہیں