Light
Dark

ٹرمپ کے اعلان کے بعد غزہ میں حملوں میں کمی آ گئی، الجزیرہ

الجزیرہ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کمی آ گئی ہے۔
وسطی غزہ کے علاقے دی البلح میں رپورٹنگ کرنے والے الجزیرہ کے رپورٹر ہانی محمود نے اطلاع دی ہے کہ ٹرمپ کے اعلان کے بعد حملوں میں کمی آئی ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ کے مطالبے کے مطابق اسرائیلی بمباری رک گئی ہے یا نہیں۔
الجزیرہ کا کہنا ہے کہ جب ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی میں خطاب کرنے والے تھے، اور حماس نے ان کے 20 نکاتی منصوبے کے اہم نکات سے اصولی طور پر اتفاق کر لیا تھا، تو غزہ کی پٹی میں آدھی رات کے قریب غیر معمولی سکون دیکھا گیا۔
رپورٹرز کے مطابق غزہ کے شمالی حصے سے اب بھی دھواں اٹھ رہا ہے اور ہلکی فائرنگ اور اسرائیلی فوجی گاڑیوں کی حرکت کی آوازیں واضح طور پر سنی جا سکتی ہیں۔
ہانی محمود نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں کے مقابلے میں، آج صبح بمباری کی شدت اور بھاری اسلحے کے استعمال میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، ہو سکتا ہے یہ مکمل رکنے کا آغاز ہو۔ غزہ کی فضا میں ہمیشہ گونجتی رہنے والی اسرائیلی ڈرونز کی مخصوص آواز بھی آج صبح سنائی نہیں دی۔
واضح رہے کہ غزہ میں بمباری کا سلسلہ تھم گیا ہے، حماس کے منصوبے کو قبول کرنے کے بعد اسرائیلی حکومت نے فوج کو غزہ میں آپریشن کم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ غزہ پر بمباری فوری طور پر روکی جائے تاکہ یرغمالیوں کی محفوظ اور جلد رہائی ممکن بنائی جائے