Light
Dark

غزہ میں جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں، جنرل اسمبلی اجلاس سے گوتریس کا خطاب

یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں، کچھ ممالک ایسے کام کررہے ہیں جیسے وہ بین الاقوامی قانون نہیں جانتے۔
انتونیو گوتریس نے غزہ جنگ پر شدید اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی صورتحال میری مدت میں کسی اور جنگ سے کہیں زیادہ خوفناک ہے، غزہ میں ہولناکیاں تیسری ہولناک برسی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے سب فیصلے بنیادی انسانیت کےخلاف ہیں، اموات اور تباہی کی سطح میری مدت میں کسی اور تنازع سے زیادہ ہے۔
گوتریس نے کہا کہ فلسطینی عوام کو اجتماعی سزا اور غزہ کی منظم تباہی کسی طور جائز نہیں، ہمیں مستقل جنگ بندی چاہیے، فوری یرغمالیوں کی رہائی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ غزہ کیلئے مکمل انسانی ہمدردی کی رسائی لازمی ہے، مشرق وسطیٰ میں امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے، انسانی حقوق امن کی بنیاد ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے دنیا میں قیام امن کیلئے کردار ادا کیا، بین الاقوامی تنظیم امن اور ترقی کا محور ہے، ایسی دنیا چاہتے ہیں جو سب کے حقوق پورے کرے، افراتفری یا استحکام کی دنیا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا چاہیے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ یواین جنرل اسمبلی بات چیت اور امن کیلئے “اخلاقی کمپاس” ہے، استثنیٰ کی پالیسی پر قائم رہنے کی وجہ سے دنیامیں امن کے ستون ٹوٹ رہے ہیں۔
یواین سیکریٹری جنرل نے کہا کہ امن ہماری پہلی ترجیح ہے مگر جنگیں شدت کے ساتھ جاری ہیں، یوکرین میں جاری تشدد سے عالمی سلامتی اور امن کو خطرہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ پائیدارترقی کے اہداف ایک روڈ میپ ہیں لیکن انھیں فنڈزکی ضرورت ہے، پائیدار ترقیاتی اہداف کےلیے فنڈز میں کمی کرنا مستقبل سے چوری ہے