بھارت کے ایشیا کپ 2025 سے متعلق سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔ وہ جو ہمیشہ سیاست کو کھیل میں لے آتا ہے، اس نے ایونٹ کو سبوتاژ کرنے اور پاکستان کو نیچا دکھانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن اب فائنل میں وہ روایتی حریف سے ہی مقابلہ کرے گا۔
ایشیا کپ 2025 اس ایونٹ کا 17 واں ایڈیشن ہے، جس کا میزبان بھارت ہے۔ لیکن وہ اس ٹورنامنٹ کا 41 سالہ تاریخ کا پہلا ایسا میزبان ہے، جس میں پورا ایشیا کپ کسی اور سر زمین یعنی متحدہ عرب امارات میں کھیلا جا رہا ہے۔ بھارت جو ہمیشہ کھیل میں سیاست لاتا اور حریفوں بالخصوص پاکستان کو نیچے دکھانے کی سازشیں کرتا رہتا ہے، لیکن اس بار بھارت کو اپنے غرور کی وجہ سے پاکستان سے ایسی چوٹ ملی کہ اپنے پرائے سب یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ’’سو سنار کی اور ایک لوہار کی۔‘‘
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے واقعی ایسا کر دکھایا بھی اور رواں برس فروری مارچ میں پاکستان کی میزبانی میں کھیلی گئی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کے لیے پاکستان نہ آنے کی ضد پر ایسا معاہدہ کیا کہ جو خود بھارت کے گلے آ پڑا۔
چیمپئنز ٹرافی کیلیے بھارت کے پاکستان نہ آنے پر پی سی بی بھی اپنے موقف پر سختی سے ڈٹ گیا اور روایتی حریف کو وہ معاہدہ کرنے پر مجبور کیا، جس پر اس وقت تو بڑی لے دے ہوئی، لیکن اب سب پاکستان کرکٹ بورڈ کی بصیرت کو سراہ رہے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت 2027 تک ہونے والے تمام ٹورنامنٹس میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایک دوسرے کے ملک میں کرکٹ نہیں کھیلیں گی، بلکہ اپنے اپنے میچز کسی نیوٹرل مقام (جو یو اے ای یا سری لنکا ہو سکتا ہے) میں کھیلیں گی۔ اس معاہدے کی آئی سی سی بھی ضامن بنی۔
اب اس معاہدے کا نقصان پاکستان کو تو نہیں ہونا کہ 2027 تک اس نے کسی بھی بین الاقوامی کرکٹ ایونٹ کی میزبانی نہیں کرنی۔ مگر بھارت کو ایشیا کپ مینز، ویمنز ورلڈ کپ، ٹی 20 ورلڈ کپ مینز کی میزبانی کرنی ہے۔ جس طرح ایشیا کپ مینز متاثر ہوا۔ اسی طرح اگلے برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ مینز کی رونق بھی متاثر ہوگی۔
کیونکہ پاکستان اپنے میچز سری لنکا میں کھیلے گا اور اگر وہ سیمی فائنل یا فائنل میں پہنچا تو یہ میچز بھی سری لنکا میں ہی کھیلے جائیں گے۔ معاہدے کی رو سے اگر بھارت اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچا اور پاکستان کے مدمقابل ہوا تو وہ ایک بار پھر خفت اٹھائے گا اور فائنل کھیلنے سری لنکا آئے گا۔
بھارت جس کو دنیا کا سب سے بڑا امیر کرکٹ بورڈ ہونے کا زعم تھا اور اسی تکبر میں اس نے شاید یہ سوچ کر معاہدہ کیا تھا کہ جب معاہدے پر عملدرآمد کا وقت آئے گا تو وہ اس سے سابقہ معاہدوں کی طرح مُکر جائے گا۔ تاہم یہ بھارت کا کبھی نہ پورا ہونے والا خواب ہی رہا









