Light
Dark

ترک صدر کا شام کی تقسیم روکنے کا اعلان

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے شام کی تقسیم روکنے کا اعلان کر دیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ترکیہ شام کی تقسیم یا سرحدی سالمیت کو نقصان برداشت نہیں کرے گا، شامی حکومت اور ایس ڈی ایف کے انضمام میں ناکامی پر ترکیہ حرکت میں آئے گا۔
اردوان نے کہا کہ شام کی سالمیت اور سرحدوں کے تحفظ کیلئے ہر سفارتی چینل استعمال کیا ہے اور ہم صبر، خلوص اور سمجھ داری سے سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہے اگر سفارتی اقدامات کا جواب نہ ملا تو ترکیہ کی پالیسی بالکل واضح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شام میں ماضی کے مناظر دوبارہ رونما نہیں ہونے دیں گے۔

شام کے صدر احمد الشرع نے کہا تھا کہ اسرائیل سے خوفزدہ ہیں شام کےحالات خراب کیےجا رہے ہیں۔
نیویارک میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے احمد الشرع نے کہا کہ اسرائیل فضائی حدود کی خلاف ورزی اور سرحدی دراندازی کر رہا ہے شام کو تقسیم کرنےکی کسی بھی کوشش سے عراق اور ترکیہ متاثر ہوں گے اگر شام کو تقسیم کیا گیا تو خطے میں ہر کسی کو بہت نقصان ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ بشارالاسد کا تختہ الٹنے کے بعد اسرائیل نے شام کو مستحکم ہونے سے روکا، اسرائیل نے شام کیساتھ 1974 کے جنگ بندی معاہدے کو پامال کیا اور شامی فوجی اثاثے نشانہ بنائے گئے اسرائیلی فوج نے 20کلو میٹر دراندازی کی، اسرائیل نے ایک ہزار سے زائد فضائی حملے اور 400 زمینی دراندازی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل شام کو تقسیم کر کےکمزور رکھنا چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں مسئلہ شام کا فاتح قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں اردوان سے ملاقات کے حوالے پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ شام میں فتح کے ذمہ دار طیب اردوان ہیں جنہوں نے شام کا مسئلہ حل کیا اور انہی کی درخواست پر شام سے پابندیاں ہٹا دیں