Light
Dark

ٹرمپ کو نوبل امن انعام نہ ملنے پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل

نوبل امن انعام کیلیے وینزویلا کی جمہوریت پسند کارکن ماریہ کورینا کے نام کا اعلان ہونے پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل آگیا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے نوبل پرائز کمیٹی کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بجائے وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر کو امن انعام دینے کے فیصلے پر تنقید کی۔
ترجمان وائٹ ہاؤس اسٹیون چیونگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ صدر ٹرمپ امن معاہدے کرتے رہیں گے، جنگیں ختم کریں گے اور جانیں بچائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ انسان دوست دل رکھتے ہیں اور ان جیسا کبھی کوئی نہیں ہوگا جو اپنی مرضی کی طاقت سے پہاڑوں کو ہلا سکے۔
اسٹیون چیونگ نے مزید کہا کہ نوبل کمیٹی نے ثابت کیا کہ وہ سیاست کو امن پر ترجیح دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ وینزویلا میں جمہوریت کیلیے جدوجہد کرنے پر ماریہ کورینا نامی کارکن کو نوبل امن انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے نوبل انعام کیلیے 338 نامزدگیوں پر غور کیا گیا جن میں صدر ٹرمپ بھی شامل تھے تاہم وہ محروم رہے۔
کمیٹی نے کہا کہ ماریہ کورینا نے وینزویلا میں جمہوریت کیلیے بھرپور کردار ادا کیا، جمہوریت اور آزادانہ انتخابات کیلیے صعوبتیں برداشت کیں، ان کو انعام 10 دسمبر کو دیا جائے گا۔
دنیا بھر میں امن، انسانی حقوق اور ہم آہنگی کے فروغ کیلیے دیا جانے والا نوبل امن انعام اپنی ایک سو چوبیس سالہ شاندار تاریخ کے ساتھ آج بھی امید کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
یہ عالمی اعزاز سویڈن کے سائنس دان الفریڈ نوبیل کی وصیت کے مطابق قائم کیا گیا جنہوں نے اپنی دولت کا ایک حصہ اُن شخصیات یا اداروں کے نام کرنے کی ہدایت دی جو دنیا میں امن اور بھائی چارے کے قیام کے لیے نمایاں کردار ادا کریں