تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں ٹک ٹاکر سمعیہ حجاب کو مبینہ دھمکیاں دینے کے کیس کی سماعت ہوئی۔
ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود چوہدری کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پولیس نے ملزم کے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
تاہم عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
پولیس نے بتایا کہ حسن زاہد کے خلاف مقدمہ تھانہ شالیمار میں درج ہے، جبکہ اس سے قبل وہ مبینہ اغوا کے مقدمے میں بھی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا چکا ہے۔
گذشتہ سماعت میں ٹک ٹاکر سامعہ کے مبینہ اغوا اور دھمکیاں دینے کے کیس میں ملزم حسن زاہد کی اغواکے مقدمہ میں ضمانت خارج کردی تھی،
واضح رہے کہ مقتول ٹک ٹاکر ثنا یوسف کی دوست اور ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے اپنے اغوا کی کوشش سے متعلق کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔
سامعہ کا کہنا تھا کہ اس کو اغوا کرنے کی کوشش کرنے والا سابق منگیتر حسن زاہد نے اسے گاڑی میں بیٹھنے کا بولا اور کہا کہ اب ہم تمہیں اپنے ساتھ لے کر جائیں گے اور اپنے گھر کے بیسمنٹ میں بند کر دوں گا جس کے بعد کوئی تمہیں نہیں ڈھونڈ سکے گا۔
ٹک ٹاکر نے مزید بتایا تھا کہ حسن زاہد کا گھر لاہور میں ہے اور وہ گاڑیوں کی خرید وفروخت کا کام کرتا ہے۔ 6 ماہ قبل ہماری دوستی ہوئی اور کچھ وقت بعد منگنی کر لی۔ ابتدائی تین ماہ تک وہ میرے ساتھ بہت اچھا رہا، لیکن جب میری دوست ثنا یوسف کے قتل کا واقعہ ہوا تو میں بہت اپ سیٹ ہوئی اور اس کو اگنور کرنا شروع کیا تو وہ اصل روپ میں سامنے آ گیا۔
سامعہ کا کہنا تھا کہ حسن زاہد نہ صرف اربوں روپے کے فراڈ کیس میں نیب کو مطلوب ہے بلکہ وہ اس پر کئی ایف آئی آر بھی درج ہیں۔ جب اس کی یہ حقیقت معلوم ہوئی تو میں نے اس سے شادی سے انکار کر دیا اور انگوٹھی واپس کر دی جس کے بعد وہ ہر جگہ میرا پیچھا کرنا شروع کر کے ہراساں کرنے لگا۔ اس نے مجھے جان سے مارنے، اغوا کرنے کی کوشش بھی کی۔
ٹک ٹاکر نے کہا تھا کہ ان تین ماہ کے دوران وہ کئی بار میرے پاس آیا، رونا دھونا بھی کیا۔ اس کی والدہ بھی مجھے کہتی ہیں کہ میرا بیٹا اگر مر گیا تو ذمہ دار تم ہوگی۔ وہ خود اپنے بیٹے کو سنبھال نہیں سکتیں اور مجھ پر شادی کے لیے ہاں کرنے پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔









