Light
Dark

سندھ میں بھاری گاڑیوں کے لیے نئی شرائط پر عمل کرنا لازم قرار، نوٹیفکیشن جاری

سندھ موٹر وہیکل رولز 1969 میں اہم ترامیم کے سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، ترامیم کے تحت بھاری کمرشل گاڑیوں کے مالکان کو نئی شرائط پر عمل کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔
ترامیم میں فٹنس سرٹیفکیٹ، گاڑیوں کی مقررہ عمر کی حد اور جدید حفاظتی نظام کا لازمی نفاذ شامل کیا گیا ہے، سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ کمرشل گاڑیاں محکمہ ٹرانسپورٹ کے قائم کردہ مراکز سے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کریں گی، اور خلاف ورزی کی صورت میں گاڑی مالکان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے، جرمانے کی رقوم آن لائن سندھ حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع ہوں گی۔
شرجیل میمن نے واضح کیا ہے کہ حفاظتی آلات کی تنصیب کے بغیر نہ رجسٹریشن ہوگی، نہ پرمٹ جاری ہوگا، فٹنس سرٹیفکیٹ اور جدید حفاظتی نظام کے بغیر بھاری گاڑیاں سڑک پر نہیں آ سکیں گی، اور حفاظتی نظام غیر فعال یا خراب کرنے پر بھاری جرمانے اور گاڑی بند کی جائے گی۔
ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ مکمل ہونے میں مزید 2 سال لگ سکتے ہیں، شرجیل میمن
انھوں نے کہا یہ ترامیم شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور حادثات میں کمی کے لیے کی گئی ہیں، کیوں کہ حادثات کی ایک بڑی وجہ پرانی اور ناقص حالت میں چلنے والی بھاری گاڑیاں ہیں۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ نئی ترامیم میں گاڑیوں کی عمر کی حد بھی مقرر کر دی گئی ہے، انٹر پروونشل روٹس پر 20 سال سے زائد پرانی گاڑیوں کو پرمٹ نہیں دیا جائے گا، انٹر سٹی روٹس پر 25 سال سے زائد پرانی گاڑیاں چلانے کی اجازت نہیں ہوگی، اور شہروں کے اندر چلنے والی گاڑیوں کے لیے عمر کی حد 35 سال مقرر کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ قانون ایک سال کے اندر نافذ العمل ہوگا، خلاف ورزی پر پہلے مرحلے میں معمولی جرمانہ عائد کیا جائے گا، دوسری بار 2 لاکھ روپے اور تیسری بار 3 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا، بھاری یا ہلکی کمرشل گاڑی کو بغیر ٹریکنگ اور حفاظتی نظام کے چلنے کی اجازت نہیں ہوگی