Light
Dark

شرح سود 11 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان

کراچی : اسٹیٹ بینک نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کرے گا، جس میں شرح سود 11 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا، جس میں نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ بدترین سیلابی صورتحال کے باعث شرح سود میں تبدیلی کا امکان کم ہے اور اسٹیٹ بینک ایک بار پھر شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھ سکتا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ ملک میں سیلابی تباہ کاریوں کے نتیجے میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
مرکزی بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2025 میں ملک میں مہنگائی کی شرح 3 فیصد رہی، جبکہ جولائی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 24 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
بزنس کمیونٹی نے اسٹیٹ بینک کی پالیسی پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے، کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر جاوید بلوانی کا کہنا ہے کہ حکومت نے بارہا شرح سود میں کمی کے وعدے کیے لیکن تاجر برادری کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر امان پراچہ نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اس وقت تین سے چار فیصد کے درمیان ہے لیکن شرح سود 11 فیصد ہے، جو برآمدات اور سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کو شرح سود فوری طور پر سنگل ڈیجٹ میں لانی چاہیے تاکہ ایکسپورٹ میں اضافہ ہوسکے۔
تاجر اور صنعتکار برادری نے حکومت اور اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی معیشت کو سنبھالا دینے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے شرح سود میں کمی ناگزیر ہے۔