روانگی سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے مارکو روبیونے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں تمام یرغمالیوں کو ایک ساتھ رہا کیا جائے، اور حماس کے خطرے کو بے اثر کیا جائے تاکہ آگے بڑھ سکیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ حماس کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اسرائیل کو حماس کے خلاف دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
یرغمالیوں کے اہلخانہ نیتن یاہو پر برہم، غزہ جنگ کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ قرار دے دیا
مارکو روبیو نے کہا کہ غزہ میں انسانی بحران سنگین ہے اور امداد میں شفافیت ناگزیر ہے، غزہ کی بحالی تک شہریوں کو دوسری جگہ منتقل ہونا ہوگا، عرب ممالک شفاف امدادی نظام کے لیے آگے بڑھیں۔
انھوں نے کہا کہ امریکا قطر میں حماس کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملوں پر ’خوش نہیں‘ ہے، لیکن اس حملے سے اسرائیل کے ساتھ واشنگٹن کی اتحادی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
روبیو نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ یروشلم کے پرانے شہر میں ایک نئی سرنگ کے افتتاح میں حصہ لیں گے جو یہودیوں کے لیے مقدس ترین مقام ٹیمپل ماؤنٹ کے قریب آنے والے زائرین کے لیے ہے، جو مسلمانوں کے لیے الاقصیٰ کمپاؤنڈ کے طور پر بھی مقدس ہے۔ انھوں نے کہا ’’ڈیوڈ کا شہر (شہر داؤد) الگ ہے، میں وہاں جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔









