سلیکشن پر اعتراض کے بعد عدالتی کارروائی
کراچی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ڈیرہ مراد جمالی کے فرسٹ کلاس کرکٹر تیمور علی کی جانب سے قومی ٹیم میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے انتخاب نہ کیے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا ہے، اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سلیکشن کے عمل میں امتیازی رویہ اپنایا گیا۔
شاندار ریکارڈ کے باوجود نظرانداز
درخواست گزار کے وکیل کے مطابق تیمور علی پاکستان کے بہترین فرسٹ کلاس کھلاڑیوں میں شمار کیے جاتے ہیں، اور ان کی کارکردگی ریکارڈ کے مطابق نمایاں رہی ہے، تاہم اس کے باوجود انہیں قومی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔ وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ورلڈکپ کے لیے منتخب دیگر کھلاڑیوں کا کارکردگی ریکارڈ تیمور علی سے کہیں کم تر ہے۔
امتیازی سلوک کے خلاف اپیل
بتایا گیا کہ کرکٹر کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ میں سیکشن 37 کے تحت اپیل دائر کی گئی تھی، تاہم ابھی تک پی سی بی کی جانب سے اس اپیل پر کسی بھی قسم کا فیصلہ سامنے نہیں لایا گیا ہے، جس پر عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پی سی بی کو اپیل پر فیصلہ دینے کا پابند بنایا جائے۔
عدالتی سوالات اور آئندہ سماعت
سماعت کے دوران جسٹس عدنان اقبال نے ریمارکس دیے کہ کیا سندھ ہائیکورٹ اس معاملے کی سماعت کرنے کی مجاز ہے؟ اس پر وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل سابق ٹیسٹ کرکٹر دانش کنیریا کی درخواست پر اعلیٰ عدالتوں نے فیصلے جاری کیے تھے، اس لیے یہ مقدمہ بھی سنا جانا چاہیے۔ عدالت نے کرکٹر سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کی نقول پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت کو دو روز کے لیے ملتوی کر دیا۔









