گرفتاری اور ابتدائی کارروائی
لاہور (میڈیا رپورٹس) پاکستان کے معروف یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی، جنہیں ملک بھر میں اپنے مزاحیہ اور متنازعہ ویڈیوز کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی، اس وقت ایک سنگین قانونی بحران کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ انہیں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب لاہور ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ بیرونِ ملک روانہ ہونے کی کوشش میں تھے حالانکہ ان کا نام پی این آئی ایل فہرست میں پہلے ہی شامل کیا جا چکا تھا، جس کے بعد انہیں امیگریشن حکام نے فوری طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کر دیا تھا۔
مقدمہ درج اور الزامات کی تفصیل
این سی سی آئی اے کی جانب سے گرفتار یوٹیوبر کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کیا گیا اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم نہ صرف آن لائن جوا کھیلنے والی ایپس کی پروموشن میں براہِ راست ملوث رہا بلکہ اس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے شواہد بھی سامنے آئے، مزید یہ کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف جوا ایپس کو فروغ دینے اور عوام کو غیر قانونی سرمایہ کاری میں ملوث کرنے جیسے سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
شواہد اور مزید تحقیقات
ایجنسی نے گرفتاری کے بعد ڈکی بھائی کے زیر استعمال موبائل فون (آئی فون 16 پرو میکس) سے حاصل کردہ ڈیٹا کو اپنے قبضے میں لیا، جس میں مشکوک واٹس ایپ نمبرز، مشتبہ ادائیگیوں کے ریکارڈ اور بائنومو پروموشن سمیت غیر قانونی لین دین کے شواہد بھی برآمد ہوئے، جس کے بعد نہ صرف ملزم کے اثاثوں کی چھان بین شروع کر دی گئی بلکہ تمام متعلقہ مالیاتی ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے تاکہ مزید حقائق منظرِ عام پر لائے جا سکیں۔
عدالت میں پیشی اور جسمانی ریمانڈ
یوٹیوبر کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد ڈیوٹی مجسٹریٹ کی جانب سے دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا اور اس دوران ملزم کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کر دیا گیا تاکہ تفتیش کے دوران مزید اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا جا سکے۔
ایف آئی اے اور سنسنی خیز انکشافات
ایف آئی اے حکام کے مطابق تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ڈکی بھائی نہ صرف پاکستان میں ایک معروف گیمبلنگ ایپ کے کنٹری ہیڈ کے طور پر کام کر رہا تھا بلکہ اس نے تشہیری مہمات کے عوض کروڑوں روپے وصول کیے، ساتھ ہی وہ کم از کم بارہ جوا کھیلنے والی ایپس کی تشہیر میں بھی براہ راست ملوث پایا گیا، اور متعدد بار تفتیش کے لیے طلب کیے جانے کے باوجود وہ پیش نہ ہوا جس کے نتیجے میں اس کا نام پی این آئی ایل لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔
ماضی کے مقدمات
یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ڈکی بھائی قانونی شکنجے میں آیا ہو، بلکہ اس سے قبل رواں برس اپریل میں موٹروے پولیس نے تیز رفتاری اور دورانِ ڈرائیونگ خطرناک اسٹنٹس کرنے پر اس کے خلاف دو مقدمات درج کیے تھے، تاہم اس وقت وہ گرفتاری سے بچنے میں کامیاب ہو گیا تھا کیونکہ اس نے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر لی تھی۔









