وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ افغانستان سے پاکستان پر حملہ بھارت کی شہ پر ہوا، ہمیں مجبوراً بھرپور جوابی کارروائی کرنی پڑی۔
رہنما نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان پر حملہ ہوا تو افغانستان کے وزیر خارجہ امیر متقی دہلی میں بیٹھے تھے، افواج پاکستان نے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے خوارجیوں کو منہ توڑ جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ فغانستان نے دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے، طویل مدت کے لیے جنگ بندی ہو محض وقت حاصل کرنے کے لیے عارضی سیز فائر منظور نہیں۔
یہ پڑھیں: افغانستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تو ہم کریں گے، رانا ثنااللہ نے خبردار کردیا
وزیراعظم نے کہا کہ ہم فتنۃ الخوارج کا خاتمہ چاہتے ہیں اور خواہش مند ہیں کہ افغانستان ان خوارج کی آماجگاہ نہ بنے، پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود افغان بھائیوں کی میزبانی کی، 40 لاکھ افغان باشندے دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں، افغان بھائیوں کے لیے ہم نے جو کچھ کیا اپنا فرض سمجھ کر کیا مگر حالیہ واقعات سے ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2018 میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوچکا تھا، کیا وجہ ہے کہ دہشت گردی کے فتنے نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کیا، سابق حکومت نے دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی اور خوش آمدید کہا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دینے کے باعث فتنے نے دوبارہ سر اٹھایا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں حملہ آوروں کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔









