Light
Dark

پاکستان افواج اسرائیل کو بھی چند گھنٹوں میں لپیٹ سکتی ہیں، مولانا فضل الرحمان

افواج پاکستان کی قوت پر اظہار اعتماد

راولپنڈی (12 ستمبر 2025): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے یہ بیان دیا گیا کہ اگر پاکستان افواج میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ صرف چار گھنٹوں کے اندر بھارت کی طاقت کو ختم کر سکتی ہیں تو اسی طرح یہ قوت بھی ان کے پاس ہے کہ اسرائیل کو بھی محض چند گھنٹوں کے اندر لپیٹا جا سکتا ہے، اور اس حقیقت کو امت مسلمہ کے لیے امید اور جرات کا پیغام سمجھا جانا چاہیے۔

فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم کی مذمت

مولانا فضل الرحمان نے ختم نبوت و دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کے سامنے اس وقت کئی محاذ کھلے ہیں، اور اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں ستر ہزار فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں جن میں بچوں، خواتین اور بوڑھے افراد کی اکثریت شامل ہے، جبکہ غیر مسلح عوام پر فضائی بمباری کو دشمن کی بزدلی قرار دیا گیا۔

خطے کی صورتحال اور حماس کے ساتھ یکجہتی

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسرائیل نے قطر میں حماس کی قیادت کو بھی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا، اس کے ساتھ ساتھ لبنان، شام اور یمن پر بھی بمباری کی گئی، اور ان تمام مظالم کے باوجود قطر اور حماس کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرارداد پاکستان میں یہ موقف شامل کیا گیا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر یہودی بستیوں کا قیام کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے، اور حکمرانوں کو انتباہ دیا کہ اگر اسرائیل کو ریاستی سطح پر تسلیم کرنے کی کوشش کی گئی تو تاریخ میں نہ ان کا وجود باقی رہے گا اور نہ ان کا نام محفوظ رکھا جائے گا۔

اسلامی بلاک کی تشکیل کی تجویز

سربراہ جے یو آئی (ف) نے اپنی تقریر میں اسلامی بلاک کے قیام کی تجویز پیش کی اور کہا کہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی بنیاد رکھیں اور اس قوت کو بیت اللہ کی آزادی کے لیے استعمال کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اسرائیل گریٹر اسرائیل اور حرمین شریفین پر قبضے کی بات کرتا ہے تو ہمیں دو ریاستی حل کے بجائے واضح طور پر یہ کہنا ہوگا کہ ایک آزاد فلسطین ہی اصل حقیقت ہے، اور اسرائیل کا وجود کسی طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

ماضی کی تحریکات کا حوالہ

مولانا فضل الرحمان نے 1974 اور 1984 کی تحریکات کا بھی حوالہ دیا جب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی کچھ عناصر معاشرے میں اضطراب اور شکوک پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسا کہ سپریم کورٹ میں دیکھا گیا، مگر اس محاذ پر بھی ان کی شکست یقینی ہوئی اور ان کی طاقت کو توڑ دیا گیا۔

Haider Ali – Broadcaster & Media Professional

I am Haider Ali, a graduate of the University of Karachi and the host of “DOSTI” on Sindh Police Radio FM 88.6. I have experience in voice-overs, news anchoring, article writing, editing, proofreading, and publishing. Skilled in both on-screen presentation and behind-the-scenes production, I am passionate about creating engaging content and promoting quality broadcasting in Pakistan.